5 جنوری 2019 - 15:02
سعودی عرب کی دعوت اور شام کی مصلحت

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر پہنچے ہوئے ہیں کہ دنیا ۷۴ سال کے بعد ایک بار پھر پر جھاڑنے اور کھال بدلنے کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ایک نئے عالمی نظام کی آمد آمد ہے۔ ہم آج کے اس مرحلے میں ـ جبکہ مغرب کا سورج غروب اور مشرق کا سورج طلوع ہورہا ہے ـ سرد جنگ کے دو قطبی (Bipolar) نظام اور عبوری مرحلے یا عہد تغیّر (Transition period) کے طریقہ کار کو نہیں اپنا سکتے۔

آج ہم ایسے حالات سے گذر رہے ہیں کہ دنیا ۷۴ سال بعد پھر پر جھاڑنے اور کھال بدلنے کے مرحلے تک پہنچ گئی ہے اور نئی شکل و صورت اختیار کررہی ہے:

سعد اللہ زارعی نے روزنامہ کیہان کی یادداشت کے ضمن میں لکھا:

سعودی حکام نے بحران شام کے خاتمے کے باقاعدہ اعلان سے قبل ہی سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کو دمشق روانہ کیا تا کہ صدر بشار الاسد کو عرب لیگ میں واپس لائیں اور سعودیوں کو شام کی تعمیر نو میں شرکت کی اجازت دے دیں! ادھر امارات نے اپنا سفارتخانہ دمشق میں کھول دیا ہے؛ بحرین بھی اپنا ایک وفد اسی مقصد سے دمشق روانہ کرچکا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب، امارات اور بحرین شام کے خلاف لڑنے والے محاذ کے اگلے مورچے کی تین ریاستیں ہیں؛ انھوں نے سب سے پہلے دمشق میں اپنے سفارتخانے بند کردیئے تھے اور ۷ سال تک حکومت شام کا تختہ الٹنے کے لئے کوششیں کی تھیں اور اربوں ڈالر خرچ کر کے شام کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور لاکھوں انسانوں کو اپنے مقاصد کے حصول اور یہودی ریاست کے ایک عظیم مخالف ملک “شام” کو منظر عام سے ہٹانے کے لئے، قتل کردیا؛ چنانچہ ان کی دمشق واپسی اور سفارتخانوں اور دمشق کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی، ایک عظیم شکست ہے اور ان ریاستوں اور ممالک کے وفود کی دمشق آمد و رفت بذات خود “شکست کا اعتراف” ہے بشار الاسد کے مخالفین کی طرف سے۔ لیکن اصل بات یہ نہیں ہے:

اگر ہم تصور کریں کہ سعودی، اماراتی اور بحرینی حکومتوں سمیت کچھ دوسرے ممالک، جو آج بھی شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں اور شام کی حکومت کی تبدیلی کے درپے ہیں، آج اپنے مقاصد کو ترک کرچکے ہیں اور حکومت شام کو ہٹانے یا کمزور کرنے کا سلسلہ چھوڑ چکے ہیں، تو یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہوگی۔ کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سعودیوں نے شکست کھانے اور حتی کہ شکست کا اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنی روایتی پالیسیوں کو جاری رکھا ہے۔ بطور مثال سعودیوں نے عراقی حکومت کو ـ جو کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ خصوصی تعلقات میں منسلک ہے ـ بدلنے کے لئے وسیع ترین کوششیں کیں لیکن عراق میں ۲۰۱۸ع‍ کے پارلیمانی انتخابات میں ان کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔

بعدازاں، سعودیوں نے کچھ وفود بغداد روانہ کئے اور بعض عراقی حکام ـ خصوصا شیعہ راہنماؤں ـ کو دعوتیں دے کر یہ جتانے کی کوشش کی کہ گویا انھوں نے عراق میں اپنی شکست قبول کرلی ہے اور اب اپنے کھیل کی اصلاح کے درپے ہیں، لیکن پھر اچانک سعودیوں سے وابستہ عناصر کو آگ و خون کے تحائف لئے بصرہ کے پرامن احتجاجات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا اور بعدازاں “ہوٹل بابِل” میں ہونے والی امریکی ـ سعودی نشستوں کی دستاویزات منظر عام پر آگئیں جن سے واضح ہوا کہ امریکی اور سعودی ـ اس بار پہلے سے زیاد درندگی اور کُشت و خون کے ذریعے ـ بغداد میں اپنی خواہش کے مطابق حکومت بنانے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ حالانکہ عراق کی مطلق اکثریت کا تعلق شیعہ آبادی سے ہے، عراق میں موجودہ سیاسی نظام کو معاشرتی مقبولیت حاصل ہے، اور اس نظام پر تقریبا قومی اجماع عمل میں آچکا ہے، چنانچہ بنی سعود کے لئے یہاں کی حکومت تبدیل کرنا یا حکومتی نظام میں تبدیلی لانا، بہت دشوار تھا جیسا کہ بنی سعود نے جولائی، اگست اور ستمبر ۲۰۱۸ع‍ میں کروڑوں پٹروڈالرز پانی کی طرح بہا کر عراق کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کی، ڈالر خرچ ہوگئے، کچھ شرانگیزیاں بھی ہوئیں، لیکن سعودی سازش ناکام ہوئی!

چنانچہ واشنگٹن سے وابستہ عرب حکومتیں گو کہ اپنے بزعم شام کو سفارتی تعلقات بحالی اور عرب دنیا کے دامن میں واپسی کی دعوت دے رہے ہیں، اور ان اقدامات سے اگرچہ شکست کے ضمنی اعتراف کا پتہ ملتا ہے لیکن یہ اقدامات بجائے اس کے کہ شکست کا اعتراف ہوں، ایک نئی اور گہری سازش کا شاخسانہ ہیں۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کرچکے ہیں کہ سلامتی کے شعبے میں شام کے خلاف سازشیں مطلق ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں چنانچہ اب وہ سیاسی شعبے میں اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے کے درپے ہیں؛ لیکن ایسا کیونکر ممکن ہے؟

بنی سعود نے سات سالہ خونی سازشوں کے بعد، اب شام کو [بالواسطہ طور پر] دعوت دی ہے کہ عرب لیگ میں واپس آجائے اور ایک معمولی عرب ملک کے طور پر کردار ادا کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شام کی عرب لیگ میں واپسی شامیوں کی ضرورت ہے یا کہ سعودیوں کی؟ کیا اس وقت عرب لیگ وجود اور تشخص کے بحران (Crisis of identity and existence) میں مبتلا اور اپنی بقاء کے لئے شام کی واپسی کی محتاج ہے؟ یا نہیں، بلکہ شام کو وجودی اور سیاسی بحران کا سامنا ہے اور اس کو اپنی بقاء کی خاطر عرب لیگ میں واپسی کی ضرورت ہے؟

اس سوال کا جواب بہت آسان ہے: کون نہیں جانتا کہ عرب لیگ گذشتہ ۲۰ برسوں سے اپنی بقاء کو یہودی ریاست کی بقاء سے جوڑے ہوئے ہیں؟ کون نہیں جانتا کہ عرب لیگ ۲۰ قبل مرچکی ہے اور اس تنظیم کا صرف نام باقی ہے اور عملی دنیا میں اس کا کوئی اثر نہيں ہے۔ کیونکہ عرب لیگ کا فلسفۂ وجود دو چیزوں پر مشتمل تھا: ۱۔ یہودی ریاست کا مقابلہ اور فلسطین کی آزادی؛ اور ۲۔ عرب ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور باہمی تناؤ کا خاتمہ۔ چنانچہ کون نہیں جانتا کہ عرب لیگ نہ صرف فلسطین کی آزادی اور غاصب یہودی ریاست کے خلاف جدوجہد کو اپنا مقصد نہیں سمجھتی بلکہ اس کے رکن ممالک گذشتہ ۲۰ برسوں سے اپنی بقاء کو یہودی ریاست کی بقاء سے جوڑے ہوئے ہیں؟ اور باہمی تعاون و تعلق کے سلسلے میں بھی تو سب کچھ عیاں ہے۔

عرب لیگ کے اراکین ـ بالخصوص نمایاں عرب ممالک ـ نہ صرف یہودی ریاست کے خلاف جدوجہد کا ترک کرچکے ہیں بلکہ اس کے ساتھ سفارتی اور سیکورٹی روابط قائم کرچکے ہیں اور سات سال تک محض یہودی ریاست کی بقاء کی خاطر، اپنی پوری قوت سے، شام کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ دوسری طرف سے، باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے، عرب ممالک: یمن، بحرین، لیبیا، شام، عراق اور دیگر ممالک کو اور ایک دوسرے کو بموں اور بمبار طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے مغرب اور مشرق سے امداد وصول کررہے ہیں! اور آج تقریبا تمام عرب ممالک کی سلامتی کی صورت حال ماضی سے کہیں زیادہ نازک ہے۔ اب، ان حالات میں، شام کی عرب لیگ میں واپسی، ـ جس کو بعض ذرائع ابلاغ “دُرِّ گراں بہاء” کا نام دیا ہے، ـ کا شام کے لئے کیا فائدہ ہے؟ کیا شام کی خانہ جنگی کا انتظام و انصرام عرب لیگ ہی کے اراکین و منتظمین کے ہاتھ میں نہیں تھا؟ کیا اس خانہ جنگی کے ذمہ دار اور حامی اور امداد رساں، یہی ممالک نہیں تھے؟ چنانچہ موجودہ صورت حال میں، عرب لیگ صدر بشار الاسد کی ساکھ کا تحفظ نہیں کررہی ہے بلکہ بشار الاسد ہیں جو اگر عرب لیگ میں واپسی کی درخواست کو منظور کریں، تو کسی حد تک عرب لیگ کو معتبر بناسکیں گے۔ لیکن بشار الاسد کے مفاد میں نہیں ہے بنی سعود اور دیگر کی دعوت کو مثبت جواب دیں؛ کیوں؟

سعودی عرب اور اس کے سازشی محاذ، اور اس کی اطاعت گزار تنظیم “عرب لیگ” کو توڑ دینے والے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ شام میں تکفیریوں کی شرمناک شکست نے بنی سعود کو سلامتی کے حوالے سے بھی اور اعتقادی حوالے سے بھی، دو بنیادی تنزلیوں سے دوچار کردیا ہے:

    سلامتی کے شعبے میں سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ “بندر بن سلطان” سنہ ۲۰۰۶ع‍ سے ایک منصوبے پر کام کیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ اس منصوبے نیز امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے علاقے کے ماحول کو اپنے مفاد میں بدل سکیں گے چنانچہ انھوں نے مغربی ایشیا کے مسلمانوں کی خونریزی اور دشمنان اسلام سے مل کر بڑی بڑی سازشوں سے دریغ نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود ان کا منصوبہ ناکام ہوگیا اور امریکی و یہودی حمایت بے سود رہی اور گوکہ علاقہ تکفیری ـ یہودی فتنے کی آگ میں جل گیا مگر حصول مقصد ممکن نہ ہوا اور سعودی سرمایہ بھی ضائع ہوا، سعودی حکمران، جو پٹروڈالرز کے ذریعے عربوں پر مسلط ہوچکا تھا، اپنی قائدانہ صلاحیت کا ثبوت نہیں دے سکے۔ اور یوں عربوں کے درمیان بھی اور بنی سعود کے ڈالروں کے سامنے سجدہ ریز غیر عرب ممالک میں سعودی انتظام اور قیادت پر اعتماد شدت سے متزلزل ہوا۔
    اعتقادی و نظریاتی لحاظ سے بھی تکفیری انتہاپسندی بالآخر ناکام ہوئی جس کی ناکامی در حقیقت سعودیوں کے فکری مکتب یعنی “وہابیت” ناکامی ہے۔ عراق اور شام میں شکست کے بعد تکفیری شدت پسندی عملی طور پر قابل نفرت عنصر میں تبدیل ہوئی اور یہ عالمی نفرت براہ راست “بنی سعود اور وہابیت” کی طرف پلٹ گئی۔ دوسری طرف سے یمن پر سعودیوں کی مسلط کردہ چار سالہ ظالمانہ جنگ نے عرب اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور جمال خاشقجی کے قتل جیسے مسائل نے نقصان کو مزید وسعت اور شدت دی۔ دریں اثناء، عالم اسلام میں سعودیوں کے متوازی دو قوتوں ـ یعنی ترکی اور محاذ مزاحمت ـ کے درمیان، ابتدائی فاصلوں کے باوجود، قربتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب جبکہ سعودیوں نے حالات کی نزاکت کا بھی ادراک کرلیا ہے اور اس حقیقت کا بھی کہ شام میں دہشت گردوں کی جولانیوں کا دور انتہاء کے بالکل قریب ہے، تو انھوں نے سوڈان کے ایک اعلی وفد کو ـ جو آج سے دو سال تک ایران کا دوست سمجھا جاتا تھا ـ دمشق روانہ کیا تا کہ “بہت بھاری قیمت ادا کرکے” شام کو خرید لے! یا پھر اسے شام کے ساتھ مزید قربت سے روک لے۔

تاہم شام نے سعودی عرب اور اس کے ماتحت یا رفیق کار عرب حکمرانوں کی جارحیتوں، خونریزیوں اور تباہ کاریوں کو اپنے پورے وجود سے محسوس کیا ہے لہذا بہت بعید از قیاس ہے کہ سعودی خواہشوں کے آگے سر تسلیم خم کرے اور سعودیوں کی معین کردہ شرطوں پر عرب لیگ میں واپس پلٹ جائے کیونکہ تشخص باختہ عرب لیگ ـ جس سے شام کو چند سال قبل نکال باہر کیا گیا تھا ـ میں شمولیت اس کے لئے نہ صرف مفید نہیں ہے بلکہ یہ سات سالہ استقامت کے بعد حاصل ہونے والے استحکام کے لئے خطرناک اور شام کی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ آج اس حقیقت کا ادراک مشکل نہیں ہے کہ شام کی سلامتی کا استحکام اور دوام فتنوں کے مراکز کے زوال اور نابودی سے وابستہ ہے نہ کہ ان فتنوں کی ٹہنیوں اور پتوں ـ جیسے داعش وغیرہ ـ کی نابودی سے۔ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ شام کے حالیہ سات سالہ عدم استحکام کا اصل سرچشمہ اور فتنہ انگیزی کا مرکز وہابیت اور سعودی ریاست، تھا۔ آج یہ مرکز اور سرچشمہ کمزوری کی سمت گامزن ہوچکا ہے اور شام سمیت محاذ مزاحمت بخوبی سمجھتا ہے کہ اس سرچشمے کو کم از کم مصارف و اخراجات برداشت کرکے، محض کچھ سیاسی اقدامات کے ذریعہ منظر عام سے ہٹایا جاسکتا ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کونکر ممکن ہے؟

بےشک عرب اور اسلامی ممالک کو اپنے مسائل کے حل اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لئے بعض تنظیموں نیز کچھ مواقع کی ضرورت ہے جبکہ عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظيم اور خلیج فارس تعاون کونسل جیسی تنظیمیں نہ تو مسائل حل کرنے پر قادر ہیں اور نہ ہی مواقع سے درست فائدہ اٹھانے کی اہلیت رکھتی ہیں، یہی نہیں بلکہ یہ تنظیمیں بذات خود عالم اسلام کے لئے دشوارترین مسائلوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ چناکنچہ ان پھٹے پرانے کپڑوں کو عالم اسلام کے پیکر سے الگ کرکے دور پھینکنا چاہئے اور نئی تنظیموں کی بنیاد رکھنا چاہئے۔

آج کم نہیں ہیں وہ اسلامی اور عربی ممالک جو امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور بنی سعود کی اور اس کے کٹھ پتلیوں کے غدارانہ اور اسلام دشمن اور امت دشمن اقدامات سے تھک ہار گئے ہیں اور مسائل کے حل اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے مناسب ایک کارآمد محور اور مرکز کی تلاش میں ہیں۔ تو ان ممالک کی یہ خواہش اور یہ تلاش ایک مضبوط اور مؤثر تنظیم کی تاسیس کا سبب کیوں نہیں بننا چاہئے؟

آج ایران، ترکی، شام، عراق، پاکستان، افغانستان، عمان، قطر، الجزائر، تیونس، انڈونیشیا وغیرہ ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھ سکتے ہیں اور اس امکان کو پیدا کرسکتے ہیں کہ دوسرے اسلامی ممالک بھی بتدریج اس تنظیم میں شامل ہوجائیں اور یہ تنظيم اہم ترین اور سب سے زیادہ مؤثر تنظیم میں بدل جائے جس میں زیادہ سے زیادہ اسلامی ممالک شامل ہوں۔ عرب ممالک بھی ـ عالمی سازشوں سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہونے والے ممالک “عراق” اور “شام” کو محور بنا کر ایک اہم عرب تنظیم قائم کرسکتے ہیں؛ یقینا ایسی کوئی عرب تنظیم عرب اقوام کے بہت سے مسائل کے حل میں بنیادی کردا ادا کرسکے گی۔

اور ہاں  “مزاحمت” اس نئی اسلامی تنظيم اور اُس نئی عرب تنظیم کے درمیان نقطۂ اشتراک کا کردار ادا کرسکتی ہے اور یوں یہ تنظیمیں سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں ابھرنے والے خطرات کے آگے مزاحمت کرسکیں گی اور عالم اسلام اور اقوام عرب کو مسلسل بحرانوں سے چھٹکارا ملے گا۔

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر پہنچے ہوئے ہیں کہ دنیا ۷۴ سال کے بعد ایک بار پھر پر جھاڑنے اور کھال بدلنے کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ایک نئے عالمی نظام کی آمد آمد ہے۔ ہم آج کے اس مرحلے میں ـ جبکہ مغرب کا سورج غروب اور مشرق کا سورج طلوع ہورہا ہے ـ سرد جنگ کے دو قطبی (Bipolar) نظام اور عبوری مرحلے یا عہد تغیّر (Transition period) کے طریقہ کار کو نہیں اپنا سکتے، بالفاظ دیگر، ۱۹۴۵ع‍ سے ۲۰۱۸ع‍ کے درمیان دور کے مختصات کو لے کر ایک نئے اور تبدیل شدہ صورت حال کا استقبال ممکن نہيں ہوگا؛ لہذا ضروری ہے کہ ہم مسائل کو جذباتی نگاہ سے دیکھنے کے بوجائے، عالمی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے کے لئے سوچ بچار سے کام لیں اور اپنے خطے کو ایشیا کے مستقبل میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنا دیں۔ یہ تمام عرب اور اسلامی ممالک کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ سینکڑوں سال تک مغرب کے دست نگر رہ کر کچھ بھی حاصل نہ کرنے کے افسوسناک تجربے سے عبرت لے کر خود کچھ کرنے کے قابل بنیں۔


ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲